مسلمانوں کا ہولی،دیوالی منانا کیسا؟

سوال:

ہولی دیوالی ہندؤوں کا پرب (Festivalہے یانہیں؟ اگرہے تو یہ کس بناپر جاری ہواہے؟ اس کی ابتداء کیسے ہوئی؟ مسلمان اگر اس کوکریں تو کیا ان پر کفر عائد ہوگا؟

الجواب:

ہولی، دیوالی ہندؤوں کے شیطانی تہوار ہیں، جب ایران خلافت فاروقی میں فتح ہوا بھاگے ہوئے آتش پرست کچھ ہندوستان میں آئے ان کے یہاں دو عیدیں تھیں، نوروز کہ تحویل حمل ہے اور مہرگان کہ تحویل میزان، وہ عیدیں اور ان میں آگ کی پرستش ہندؤوں نے ان سے سیکھیں اور یہ چاند سورج دونوں کو پوجتے ہیں لہذا ان کے وقتوں میں یہ ترمیم کہ میکھ سنکھ رانت کی پور نماشی میں ہولی اور تلاسنکھ رانت کی اماؤس میں دیوالی یہ سب رسوم کفار ہیں،

مسلمانوں کو ان میں شرکت حرام اور اگر پسند کریں تو صریح کفر۔

 غمز العیون میں ہے: اتفق مشایخنا ان من رأی امرالکفارحسنا فقد کفر حتی قالوا فی رجل قال ترک الکلام عنداکل الطعام حسن من المجموسی اوترک المضاجعۃ عندھم حال الحیض حسن فہو کافر ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔  

(الاشباہ والنظائر     بحوالہ غمزالعیون کتاب السیروالردۃ    ادارۃ القرآن کراچی    ۱/ ۲۹۵)

ترجمہ:ہمارے مشائخ کا اتفاق ہے کہ اگر کسی نے کفارکے کسی معاملہ کو اچھا کہا تو وہ کافر ہوجائے گا حتی کہ ا نھوں نے اس شخص کو کافر قرار دیا جو یہ کہے کہ کھانے کے وقت مجوسی کے ہاں گفتگوں نہ کرنا بہت اچھا عمل ہے یا ان کے ہاں حالت حیض ہمسبتری نہ کرنا اچھا عمل ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔

فتاویٰ رضویہ،جلد:14،ص:681،680)