سوال:

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حالتِ جنابت میں ہاتھ دھو کر کُلّی کر کے کھانا کھانا کراہت رکھتا ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

الجواب:

نہ ،اور بغیر اس کے مکروہ۔ اور افضل تو یہ ہے کہ غسل ہی کرلے ورنہ وضو کہ جہاں جنب ہوتا ہے ملائکہ رحمت اُس مکان میں نہیں آتے۔ کما نطقت بہ الاحادیث  (جیسا کہ احادیث میں وارد ہے۔ )

درمختار میں ہے: لاباس باکل وشرب بعد مضمضۃ وغسل ید واما قبلہا فیکرہ للجنب اھ ملخصا  

ترجمہ: کُلّی کرنے اورہاتھ دھولینے کے بعدکھانے پینے میں حرج نہیں،اوراس سے پہلے جنب کے لئے مکروہ ہے اھ ملخصاً ۔(الدر المختار    کتاب الطہارۃ،باب الحیض    مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۵۱)

ردالمحتار میں حاشیہ علامہ حلبی سے ہے: وضوء الجنب لھذہ الاشیاء مستحب کوضوء المحدث۔

ترجمہ:  ان کاموں کے لئے جنب کو وضو ئے محدث کی طرح وضو کرلینا مستحب ہے۔ 

( رد المحتار        کتاب الطہارۃ،باب الحیض    دار احیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۱۹۵)

امام طحاوی شرح معانی الآثار میں مالک بن عبادہ غافقی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ انہوں نے حضور پُرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو دیکھا کہ حاجتِ غسل میں کھانا تناول فرمایا، انہوں نے فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے سامنے اس کا ذکر کیا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اعتبار نہ آیا انہیں کھینچے ہوئے بارگاہِ انور میں حاضر لائے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم! یہ کہتے ہیں کہ حضور نے بحال جنابت کھانا تناول کیا۔ فرمایا: نعم اذا توضأت اکلت وشربت ولکنی لااصلی ولا اقرء حتی اغتسل

ترجمہ: ہاں جب میں وضو فرمالوں توکھاتاپیتا ہوں مگر نماز وقرآن بے نہائے نہیں پڑھتا۔

( شرح معانی الآثار    کتاب الطہارۃ،باب ذکر الجنب والحائض    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۶۵)

(ماخوذ:فتاویٰ رضویہ جلد :1،ص:1072تا 1073 )