سوال:
کیا
فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کے حالت جنابت میں جو پسینہ جسم سے نکلتا ہے
، وہ پاک ہے یا ناپاک۔ اور بعض اوقات اس پسینہ سے جو کپڑے تر ہو جاتے ہیں ، وہ
ناپاک ہو جاتے ہیں یا نہیں۔ ان کپڑوں سے نماز ہو سکتی ہے ؟ یا پاک کرنے کی ضرورت
ہے۔بینوا توجروا۔
الجواب:
جُنب کا پسینہ پاک ہے۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے: عرق کل شئی معتبر بسئورہ کذا فی الھدایۃ (الفتاوى الهندية، ٢٣/١)
مگر جس جگہ نجاست لگی ہو وہاں
پسینہ نکل کر اگر کپڑا تر ہو جائے تو اس
نجاست کی وجہ سے کپڑا ناپاک ہو جائے گا۔ اور پھر ناپاک ہونا اس نجاست کی وجہ سے ہے
، نہ پسینہ کی وجہ سے ، اگر پسینہ کی جگہ پانی ہوتا جب بھی یہی حکم تھا۔ واللہ
تعالی اعلم
(ماخوذ:فتاویٰ
امجدیہ جلد: 1، ص:32،33)
0 تبصرے