سوال:
حالت
جنابت میں سلام کرنا اور اس کا جواب دینا اور کھانا پینا کیسا ہے، ناجائز ہونے کی
صورت میں یہ سوال کہ سحری کا وقت کم ہے اور غسل کرنے تک وقت جانے کا گمان غالب ہو
تو کیا کرے؟
الجواب:
بہتر یہ ہے کہ وضو کر لے اور نہ کیا جب بھی
ناجائز وہ گناہ نہیں اور کلی بھی نہ کی ہو تو جو پانی منہ سے لگا مستعمل ہو جائیگااور
مستعمل پانی کا پینا مکروہ ہے۔صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ
تعالیٰ عنہا سے مروی کان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اذا کان جنبا فاراد ان
یاکل او ینام توضا و ضوءہ للصلوٰۃ۔
ردالمحتار
میں ہے: ولجنب
عند اکل و شرب و نوم و وطی۔
سحری
کا وقت تنگ ہوتو وضو کر کے کھائے اور اتنا بھی وقت نہ ہو تو کلی کرے ۔
(سلام
و جواب بھی حالت جنابت میں جائز ہے اگرچہ بہتر یہی ہے کہ طہارت کے ساتھ ہو ، جنب
کو غسل کا موقع ملا اور غسل نہ کیا تو حالت جنابت میں کھانا محتاجی لاتا ہے۔امجدی)
(فتاویٰ امجدیہ جلد:
1 ،ص:12)
0 تبصرے