سوال:
کیا
فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ وضو کے لئے نابالغ بچّوں
سے پانی بھروا کر منگوانا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب:
والدین کے سوا دوسرے کسی کو بچّوں سے مفت پانی بھروانا جائز نہیں ، نہ وضو کے لئے نہ اور کسی کام کیلئے ،کہ کوئیں کا پانی جس نے بھرا اس کی مِلک ہو جاتا ہے ، لہٰذا بچہ مالک ہو گیا ، اور بچہ اپنی مِلک کو ہبہ نہیں سکتا۔ لہٰذا اگر دوسرے کو اپنی خوشی سے دے جب بھی وہ نہیں لے سکتا۔ ہاں اگر وہ بچہ اس کا نوکر ہے اور نوکری کے وقت میں پانی بھر آیا۔ بھشتی کے لڑکےکہ پانی بھرنے کے لئے ماہوار پر رکھے جاتے ہیں، ان کا بھرا ہوا پانی اُس شخص کی مِلک ہو گا جس کا نوکر ہے۔ والتفصیل فی الفتاویٰ الرضویہ (جلد اول ص 421تا 440 امجدی)۔
واللہ تعالی اعلم
( ماخوذ:فتاویٰ امجدیہ جلد:
1، ص:10)
0 تبصرے