مسئلہ:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں
کہ ہندوؤں کا ایک تیوہار راکھی بندھن ہے اس کی ایک تاریخ مقرر ہے ۔ اس تاریخ میں
بہن اپنے بھائی کے ہاتھ میں دھاگہ وغیرہ باندھتی ہے۔ ہمارے یہاں کچھ مسلمانوں نے
ہندو عورتوں سے اور کچھ عورتوں نے ہندوؤں کو اس قسم کا ڈورا باندھا ہے۔ جن مسلمان
عورتوں نے ہندوؤں کو باندھا ان عورتوں کا اور جن مسلمان مردوں نے ہندو عورتوں سے
بندھوایا ان کا کیا حکم ہے؟ وہ مسلمان رہے یا کافر ہو گئے؟
الجواب:
جن مسلمان عورتوں نے ہندوؤں کو یہ ڈورا باندھا یا جن مسلمان مردوں نے ہندو
عورتوں سے یہ ڈورا بندھوایا وہ سب فاسق و فاجر، گنہگار، مستحق عذاب نار ہوئے۔ لیکن
کافر نہ ہوئے اس لیے کہ یہ راکھی بندھن پوجا نہیں ان کا قومی تیوہار ہے اور ان کا یہ
قومی شعار ہے، مذہبی شعار نہیں۔ کسی بھی کافر کے قومی شعار کو اختیار کرنا حرام و
گناہ ہے جیسے ہولی کھیلنا، ہاں کسی کافر کے مذہبی شعار کو اختیار کرنا ضرور کفر
ہے۔ مذہبی شعار کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ چیز ان کے مذہب میں عبادت ہو یا دہ چیز
ان کے مذہب کی رو سے ان کے مذہب کی علامت ہو۔ جیسے چوٹی رکھنا، زنار باندھنا۔ اور
راکھی باندھنا نہ تو ان کے مذہب میں عبادت ہے اور نہ ہی ان کے مذہب کی رو سے ان کی
مذہبی علامت، یہ ایک وقتی رسم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
(ماخوذ: فتاویٰ شارح بخاری،جلد2،صفحہ565)
0 تبصرے