جوٹھے پانی سے استنجا کرنا کیسا
سوال: مسلمان کے جوٹھے پانی سے استنجا کرنا کیسا ہے؟
الجواب: پانی ٹوٹی دار لوٹے میں تھا اور ٹونٹی سے منہ لگا کر کسی مسلمان نے پانی پی لیا تو لوٹے میں بچا ہوا پانی پاک طاہر و مطہر بھی ہے اور محترم و مکرم بھی ، اس سے آپ وضو بھی کر سکتے ہیں، اس سے کپڑا بھی دھو سکتے ہیں اور استنجا بھی کریں گے تو پاکی حاصل ہو جائے گی لیکن معزز اور محترم ہونے کے ناطے اس سے استنجا نہ کریں تو اچھا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کو پھینک دیں یا پانی میں ڈال دیں کہ اس میں بھی اس پانی کی توہین اور بے جا اضاعت ہے جس پر مواخذہ ہوگا۔ اور اگر کسی کھلے منہ کے برتن میں پانی پیا اور لبوں کا وہ حصہ جو منہ بند کرنے پر بھی نظر آتا ہے اس پانی میں ڈوبا تو اب پانی مطہر نہ رہا اس سے وضو نہیں کر سکتے ، بقیہ استعمال میں لا سکتے ہیں، استنجا میں استعمال کریں تو حرج نہیں، بے کار پھینک دیا تو مواخذہ ہوگا۔ واللہ تعالٰی اعلم
عبدالمنان اعظمی شمس العلوم گھوسی مئو
(ماخوذ: فتاویٰ بحرالعلوم، جلد1،ص 67)
0 تبصرے