سوال:

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد کے غسل خانہ میں پیشاب یا پاخانہ امامِ مسجد کو یا نمازیوں کو کرنا درست ہے یا نہیں اور فرش غسل خانہ پر لوٹا رکھنا کیسا ہے لوٹا گندا ہو یا نہیں۔

الجواب:

غسل خانہ میں پیشاب کرنا مکروہ ہے، اور پاخانہ پھرنا بہت زیادہ بُرا۔ حدیث میں وارد ہوا : لا يبولن أحدكم في مستحمه ثم يغتسل فيه قال أحمد: ثم يتوضأ فيه فإن عامة الوسواس منه "[سنن أبي داود، ٧/١] کوئی شخص نہانے کی جگہ پر پیشاب نہ کرے پھر وہاں غسل کرے۔ اس سے اکثر وسوسے پیدا ہوتے ہیں۔ دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا:اتقوا الملاعن الثلاثة: البراز في الموارد، وقارعة الطريق، والظل [سنن أبي داود ,1/7] تین چیزیں جو لعنت کی سبب ہیں ان سے بچو، گھاٹ پر پاخانہ پھرنا اور بیچ راستہ میں اور سائے میں جہاں لوگ اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ وجہ ممانعت و لعنت ان جگہوں میں پاخانہ پھرنے کی یہ ہے کہ لوگوں کے لئے یہ تکلیف وہ ایذا کا سبب ہے اور ظاہر ہے کہ غسل خانہ میں پاخانہ پھرنے سے مصلیوں کو کس قدر ایذا پہنچے گی۔اس حدیث کے تحت مرقاة شرح مشكاة میں فرمایا:قوله الملاعن الخ أي : مجالب اللعن لأن أصحابها يلعنهم المار لفعلهم القبيح أو لأنهم أفسدوا على الناس منفعتهم فكان ظلما ، وكل ظالم ملعون (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح 385/1)

 اگر غسل خانہ کا فرش پاک ہے تو اس پر لوٹا رکھ سکتے ہیں ورنہ نہیں۔ واللہ تعالی اعلم

ماخوذ: فتاویٰ امجدیہ جلد 1، ص39