سوال:

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ہنودجو اپنے معبودان باطلہ کوو ذبیحہ کے سوااور قسم طعام وشیرینی وغیرہ چڑھاتے ہیں اور اس کا بھوگ یا پرشاد نام رکھتے ہیں اس کا کھانا شرعا حلال ہے یانہیں؟ بینوا توجروا

الجواب :

حلال ہے  لعدم المحرم (حرمت کی دلیل نہ ہونے کی وجہ سے) مگر مسلمان کو احتراز چاہئے  لخبث النسبۃ   (نسبت کی خباثت کی وجہ سے) عالمگیریہ میں ہے:

مسلم ذبح شاۃ المجوسی لبیت نارھم اوالکافر لالھتہم توکل لانہ سمی اﷲ تعالٰی ویکرہ للمسلم کذا فی التاتارخانیۃ ناقلا عن جامع الفتاوٰی   اقول فاذا حلت ھذہ وھی ذبیحۃ فالمسئول عنہ اولٰی بالحل۔ 

ترجمہ:اگر کسی مسلمان نے آتش پر ست کی بکری اس کے آتشکدہ کے لئے یا کافر کے جھوٹے خداؤں کے لئے ذبح کر ڈالی تو اسے کھایا جائے گا (یعنی کھانا چاہے تو کھاسکتاہے) اس لئے کہ مسلمان نے اس پر خدا کا نام لیاہے لیکن ایسا کرنا مسلمان کے لئے مکروہ ہے تاتارخانیہ میں جامع الفتاوٰی کے حوالے سے اسی طرح منقول ہے۔ (فتاوٰی ہندیہ         کتاب الذبائح  الباب الاول     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۲۸۶)

اقول (میں کہتاہوں) جب یہ ذبیحہ ہونے کے بعد حلال ہے تو پھر جس مسئلہ کے متعلق سوال کیا گیا وہ بطریق اولٰی حلال ہے۔

 

اور شیخ محقق رحمۃ اللہ تعالٰی نے مجمع البرکات میں فرماتے ہیں: مایاتی المجوس فی نیروز ھم من الاطعمۃ یحل اخذ ذلک ولا حتراز عنہ اسلم کذا فی مطالب المومنین ناقلا عن الذخیرۃ   ملخصا   (مجمع البرکات)

اقول فاذا کان الاحتراز عن ھذا اسلم مع انہ لیس الاطعاما صنعہ لیوم زینتہم فالمستفسر عنہ اجدر بالاحتراز واحری کمالایخفی۔

ترجمہ:آتش پرست اپنی عیدمیں جو کھانے وغیرہ لاتے ہیں ان کالینا حلال ہے ہاں البتہ ان سے بچنا زیادہ سلامتی کی راہ ہے۔ اسی طرح مطالب المومنین میں ذخیرہ کے حوالے سے منقول ہے۔ تلخیص پوری ہوئی، اقول(میں کہتاہوں) جب اس سے بچنا زیادہ سلامتی ہے باجود یکہ یہ صرف وہ کھانا ہے جو انھوں نے اپنی زیب وزینت کے دن کے لئے تیار کیا ہے لہذا جس کے متعلق سوال کیاگیا وہ بچنے کے زیادہ قابل اور لائق ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔

اگر کفار اس پر شاد کو بطور تصدق بانٹ رہے ہوں جب تو ہر گز پاس نہ جائے یا رب مگر بضرورت شدیدہ کہ صدقہ کے طور پر لینے میں معاذاللہ مسلمان کی ذلت اور گویا کافر کے ہاتھ اس کے ہاتھ پر بالا کرنا ہے۔

 حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: الیدالعلیا خیر من الید السفلی والید العلیا ھی المنفقۃ والید السفلی ھی السائلۃ اخرجۃ الشیخان وغیرھما عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔

ترجمہ:اونچا ہاتھ نیچے ہاتھ سے بہتر ہے اور دینے والا ہاتھ اونچا ہے اور مانگنے والا نیچا، (بخاری ،مسلم اور ان دو کے علاوہ باقی لوگوں نے عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماا سے اس کی تخریج کی ۔واللہ تعالٰی اعلم۔

 (صحیح البخاری   کتاب الزکوٰۃ     باب لاصدقہ الا عن ظہر غنی الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۱۹۲،صحیح مسلم         کتاب الزکوٰۃ بیان ان الید العلیا خیر من الید السفلٰی  قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۳۳۲)

 

(ماخوذ:فتاویٰ رضویہ جلد 21،ص:607 تا 608)