سوال:

 اللہ تعالٰی کو عاشق اور حضور پرنور سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا معشوق کہنا جائزہے یانہیں؟

الجواب:

 ناجائز ہے کہ معنی عشق اللہ عزوجل کے حق میں محال قطعی ہے۔ اور ایسا لفظ بے ورودثبوت شرعی حضرت عزت کی شان میں بولنا ممنوع قطعی۔

ردالمحتارمیں ہے : مجردایھام المعنی المحال کافٍ فی المنع ۔

 صرف معنی محال کا وہم ممانعت کے لئے کافی ہے۔  

( ردالمحتار    کتاب الحظروا لاباحۃ فصل فی البیع     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۲۵۳)

امام علامہ یوسف اردبیلی شافعی رحمہ اللہ تعالٰی کتا ب الانوار لاعمال الابرار میں اپنے اور شیخین مذہب امام رافعی وہ ہمارے علماء حنفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے نقل فرماتے ہیں :

 لوقال انا اعشق اﷲ اویعشقنی فبتدع و العبارۃ الصحیحۃ ان یقول احبہ و یحبنی کقولہ تعالٰی یحبہم ویحبونہ

اگر کوئی شخص کہے میں اللہ تعالٰی سے عشق رکھتاہوں اور وہ مجھ سے عشق رکھتاہے تو وہ بدعتی ہے لہذا عبارت صحیح یہ ہے کہ وہ یوں کہےکہ میں اللہ تعالٰی سے محبت کرتاہوں اور وہ مجھ سے محبت کرتاہے اللہ تعالٰی کے اس ارشاد کی طرح '' اللہ تعالٰی ان سے محبت رکھتاہے اور وہ لوگ اللہ تعالٰی سے محبت رکھتے ہیں''  (الانوار  لاعمال الابرار   کتا ب الردۃ         المطبعۃ الجمالیہ مصر        ۲ /۳۲۱)

اسی طرح امام ابن حجر مکی قدسی سرہ الملکی نے اعلام میں نقل فرما کر مقر رکھا۔

اقول : وظاھر ان منشاء الحکم لفظ یعشقنی دون ادعائہ لنفسہ الاتری الی قولہ ان العبارۃ الصحیحۃ یحبنی ثم الظاھر ان تکون العبارۃ بواؤالعطف کقولہ احبہ ویحبنی فیکون الحکم لاجل قولہ یعشقنی والا فلا یظہر لہ وجہ بمجرد قولہ اعشقہ فقد قال العلامۃ احمد بن محمد بن المنیر الاسکندری فی الانتصاف ردا علی الزمخشری تحت قولہ تعالٰی فی سورۃ المائدۃ یحبہم ویحبونہ بعد اثبات ان محبۃ العبد اﷲ تعالٰی غیر الطاعۃ وانہا ثابتۃ واقعۃ بالمعنی الحقیقی اللغوی مانصہ ثم اذا ثبت اجراء محبۃ العبد ﷲ تعالٰی علی حقیقتہا لغۃ فالمحبۃ فی اللغۃ اذا تاکدت سمیت عشقا فمن تاکدت محبتہ للہ تعالٰی وظھرت آثارتأکدھا علیہ من استیعاب الاوقات فی ذکرہ وطاعتہ فلا یمنع ان تسمی محبتہ عشقا اذ العشق لیس الا المحبۃ البالغۃ ۱؎ اھ لکن الذی فی نسختی الانوار ونسختین عندی من الاعلام انما ھو بأو فلیستأمل ولیحرر ثم اقول لست بغافل عما اخرج واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔


اقول : (میں کہتاہوں) ظاہر یہ ہے کہ منشائے حکم لفظ ''یعشقی'' ہے نہ کہ وہ لفظ جس میں اپنی ذات کے لئے دعوٰی عشق کیا گیا ہے کیا تم اس قول کو نہیں دیکھتے کہ صحیح عبارت ''یحبنی'' ہے پھر ظاہرہے کہ عبارت واؤ عاطفہ کے ساتھ ہے جیسے اس کا قول ہے اُحِبُّہ، وَیُحِبُّنِی یعنی میں اس سے محبت رکھتاہوں اور وہ مجھ سے محبت رکھتاہے پھر حکم اس کے یعشقنی کہنے کی وجہ سے ہے ورنہ اس کے صرف اعشقہ کہنے سے کوئی امتناعی وجہ ظاہر نہیں ہوتی۔ چنانچہ علامہ احمد بن محمد منیر اسکندری نے ''الانتصاف'' میں علامہ زمحشری کی تردید کرتے ہوئے فرمایا جو اللہ تعالٰی کے اس ارشاد کے ذیل میں جو سورۃ مائدہ میں مذکور ہے ـــ:یُحِبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہ، (اللہ تعالٰی ان سے محبت رکھتاہے اور وہ اس سے محبت رکھتے ہیں) اس بات کو ثابت کرنے کے بعد کہ  بندے کا اللہ تعالٰی سے محبت کرنا اس کی اطاعت (فرمانبرداری) سے جدا ہے (الگ ہے) اور محبت معنی حقیقی لغوی کے طور پر ثابت اورواقع ہے (جیسا کہ) موصوف نے تصریح فرمائی پھر جب بندے کا اللہ تعالٰی سے محبت کرنے کا اجراء حقیقت لغوی  کے طریقہ سے ثابت ہوگیا اور محبت بمعنی لغوی  جب پختہ اور مؤکد ہوجائے تو اسی کو عشق کا نام دیاجایاتاہے پھر جس کی اللہ تعالٰی سے پختہ محبت ہوجائے اور اس پر پختگی محبت کے آثار ظاہر ہوجائیں (نظر آنے لگیں) کہ وہ ہمہ اوقات اللہ تعالٰی کے ذکر وفکر اور اس کی اطاعت میں مصروف رہے تو پھر کوئی مانع نہیں کہ اس کی محبت کو عشق کہا جائے۔ کیونکہ محبت ہی کا دوسرا نام عشق ہے اھ لیکن میرے پاس جو نسخہ ''الانوار'' ہے وہ دو نسخے میرے پاس ''الاعلام'' کے ہیں ان میں عبارت مذکورہ صرف ''آوْ'' کے ساتھ مذکور ہے لہذا غور وفکر کرنا چاہئے اور لکھنا چاہئے میں کہتاہوں کہ میں نے اس سے بے خبر نہیں جس کی موصوف نے تخریج فرمائی اور اللہ تعالٰی خوب جانتاہے اور اس عظمت والے کاعلم بڑا کامل اوربہت پختہ ہے۔ (ت)

 ( کتاب الانتصاف علی تفسیر الکشاف     تحت آیۃ یحبہم و یحبونہ الخ    ا نتشارات آفتا ب تہران ایران    ۱ /۶۲۲)


(ماخوذ:فتاویٰ رضویہ جلد 21،ص:114 تا 116)