Document

حقہ اور پان کا شرعی حکم


مسئلہ:

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کھاتولی میں ایک مولوی صاحب مقیم ہیں، حقہ اور پان دونوں استعمال کرتے ہیں اوردونوں کوجائزجانتے ہیں اور سرپرپان کھلوانا جائزبتلاتے ہیں۔ اب دریافت طلب یہ امرہے کہ اس کا حکم قرآن وحدیث سے مفصل ومدلل تحریرفرمائیے گا۔

الجواب:

(۱ و ۲) پان بلاشبہہ جائزہے اور زمانہ حضرت شیخ العالم فریدالدین گنج شکر وحضرت سلطان المشائخ نظام الملۃ الدین علیہما الرضوان سے مسلمانوں میں بلانکیر رائج ہے، حقہ کا دم لگانا جس طرح جہّال وقت افطار کرتے ہیں جس سے حواس صحیح نہیں رہتے حرام ہے اور کثیف اور بدبو رکھاجائے تو مکروہ تنزیہی، جیسے کچالہسن اور پیاز، ورنہ مباح خالص ہے۔

(۳) سرپرپان کھلوانا بھی جائزہے جبکہ پیشانی کے بال باقی رکھے جائیں، ہندیہ میں ہے: ولابأس للرجل ان یحلق وسط راسہ۔ کوئی حرج نہیں کہ مرد اپنے سر کی چوٹی (سنٹر) مونڈ ڈالے، وﷲ تعالٰی اعلم۔

(فتاوٰی ہندیۃ، کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع عشر، ۵/ ۳۵۷)
(ماخوذ: فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 553)