سوال:
کیا
فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کُتّا کو کیوں نجس فرمایا گیا ہے؟
الجواب:
کُتّا حرام ہے اور جس نے اسے پیدا کیا اسی نے اُسکی حرمت کا حکم دیا، اسکی شان ہے:یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ یَحْكُمُ مَا یُرِیْدُ۔
اور اسکی حکمت معلوم کرنا چاہتے ہیں تو اس کے خصائل ذمیمہ دیکھئے۔ہمیشہ اپنی جنس یعنی دوسرے کُتّوں کو دیکھ کر دوڑاتا ہے اور حملہ کرنا چاہتا ہے۔ کتنی ہی زیادہ شئی اس کے کھانے کے لئے ڈالی جائے مگر دوسرے کُتّے کو کبھی کھانے نہ دے گا۔ عین نماز فجر کے وقت جب تمام جانور خدا کو یاد کرتے ہیں ، یہ سوتا ہے وغیرہ ذالک۔ ہمارے مذہب میں کُتّا نجس العین نہیں ، صرف اُس کا لُعاب نجس ہے اور اس کی نجاست اسکی سمیت وغیرہ کی وجہ سے ہے۔ واللہ تعالی اعلم
(ماخوذ:فتاویٰ
امجدیہ جلد: 1، ص:36)
0 تبصرے